تو اُس کے نام نقدِ جاں روانہ کیوں نہیں کرتا

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 3
تہی اپنا یہ بے بخشش خزانہ کیوں نہیں کرتا
تو اُس کے نام نقدِ جاں روانہ کیوں نہیں کرتا
تجھے اے گوشہ گیرِ ذات! جو تجھ سے رہائی دے
کوئی اقدام ایسا باغیانہ کیوں نہیں کرتا
ہمیں کیا ہوتا، ہم آئے یہاں تیرے بُلانے پر
تو پھر ہم سے سلوکِ دوستانہ کیوں نہیں کرتا
سلگتے جسم سے شاید پرِ شعلہ نکل آئے
ہوا کے راستے میں تو ٹھکانہ کیوں نہیں کرتا
رہیں گے کب تلک ہونے نہ ہونے کے تذبذب میں
ہمارا فیصلہ وُہ منصفانہ کیوں نہیں کرتا
نظر آتا ہے لیکن دیکھنے میں ہے زیاں اپنا
تو ایسے میں تغافل کا بہانہ کیوں نہیں کرتا
آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s