بستی کے گوشے گوشے سے شور بلند ہوا

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 12
رزق کا جب ناداروں پر دروازہ بند ہوا
بستی کے گوشے گوشے سے شور بلند ہوا
مطلعِٔ بے انوار سے پھوٹا شوخ تبسم کرنوں کا
رات کے گھر میں سورج جیسا جیسا جب فرزند ہوا
سادہ، بے آمیزش جذبۂ پیر فقیر کرامت کا
جس کے اسم سے مایوسی کا زہر بھی قند ہوا
اول اول شور اُٹھا سینے میں عام تمنا کا
بند فصیلوں کے انبد میں جو دو چند ہوا
دکھ کو سمت شناسائی دی غم کے قربت داروں نے
دل دھارا، دریا مل کر بہرہ مند ہوا
چلئے! اپنے آپ سے چمٹے رہنا تو موقوف کیا
جب سے روز کے سمجھوتوں کا وہ پابند ہوا
آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s