ایک زمیں اور سرحد سرحد بٹی ہوئی

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 5
الف اکائی کے رشتے سے کٹی ہوئی
ایک زمیں اور سرحد سرحد بٹی ہوئی
پاؤں میں گھمسان برستے پانی کا
سر پر چھتری جگہ جگہ سے پھٹی ہوئی
ایک تماشا عالم گیر خسارے کا
ہر پل دیکھوں جیون پونجی گھٹی ہوئی
کل کی کالک دھو کر آج کی تختی پر
لکھتے رہئے ایک ہی املا رٹی ہوئی
نشّے میں ہے اور طرح کی یکسانی
روز کی یکسانی سے قدرے ہٹی ہوئی
آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s