اسی طریق سے اس رات کی سویر کرو

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 11
پلا کے مست کرو، مست کر کے ڈھیر کرو
اسی طریق سے اس رات کی سویر کرو
کمال کار سیاست اسی کو کہتے ہیں
خبر وہی رہے لفظوں کا ہیر پھیر کرو
جریدۂ فنِ شہزادگی میں لکھا ہے
کہ اسپِچوب سے تیغ و سناں کو زیر کرو
جنم جنم سے میں آ آ کے ہار ہار گیا
پتہ نہیں کہ تم آنے میں کتنی دیر کرو
تمہارا جبر وہی اور اپنا صبر وہی
سہار لیں گے، بڑے شوق سے اندھیر کرو
یہ خلق یورشِ زر سے نہ ہار جائے کہیں
اسے بصیرتیں بخشو، اسے دلیر کرو
آفتاب اقبال شمیم

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s