گاؤں کی سڑک

یہ دیس مفلس و نادار کج کلاہوں کا

یہ دیس بے زر و دینار بادشاہوں کا

کہ جس کی خاک میں قدرت ہے کیمیائی کی

یہ نائبانِ خداوندِ ارض کا مسکن

یہ نیک پاک بزرگوں کی روح کا مدفن

جہاں پہ چاند ستاروں نے جبّہ سائی کی

نہ جانے کتنے زمانوں سے اس کا ہر رستہ

مثالِ خانۂ بے خانماں تھا در بستہ

خوشا کہ آج بفضلِ خدا وہ دن آیا

کہ دستِ غیب نے اس گھر کی در کشائی کی

چنے گئے ہیں سبھی خار اس کی راہوں سے

سنی گئی ہے بالآخر برہنہ پائی کی

(بیروت)

فیض احمد فیض

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s