پیرس

دن ڈھلا کوچہ و بازار میں صف بستہ ہوئیں

زرد رُو روشنیاں

ان میں ہر ایک کے کشکول سے برسیں رم جھم

اس بھرے شہر کی ناسودگیاں

دور پس منظرِ افلاک میں دھندلانے لگے

عظمتِ رفتہ کے نشاں

پیش منظر میں

کسی سایۂ دیوار سے لپٹا ہوا سایہ کوئی

دوسرے سائے کی موہوم سی امید لیے

روزمرہ کی طرح

زیرِ لب

شرحِ بےدردیِ ایّام کی تمہید لیے

اور کوئی اجنبی

ان روشنیوں سایوں سے کتراتا ہوا

اپنے بے خواب شبستاں کی طرف جاتا ہوا

(پیرس)

فیض احمد فیض

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s