لاؤ تو قتل نامہ مرا

سننے کو بھیڑ ہے سرِ محشر لگی ہوئی

تہمت تمہارے عشق کی ہم پر لگی ہوئی

رندوں کے دم سے آتش مے کے بغیر بھی

ہے میکدے میں آگ برابر لگی ہوئی

آباد کرکے شہرِ خموشاں ہر ایک سو

کس کھوج میں ہے تیغِ ستمگر لگی ہوئی

آخر کو آج اپنے لہو پر ہوئی تمام

بازی میانِ قاتل و خنجر لگی ہوئی

’’لاؤ تو قتل نامہ مرا میں بھی دیکھ لوں

کس کس کی مہر ہے سرِ محضر لگی ہوئی‘‘

فیض احمد فیض

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s