یہ کس دیارِ عدم میں ۔ ۔ ۔

نہیں ہے یوں تو نہیں ہے کہ اب نہیں پیدا

کسی کے حسن میں شمشیرِ آفتاب کا حسن

نگاہ جس سے ملاؤ تو آنکھ دکھنے لگے

کسی ادا میں ادائے خرامِ بادِ صبا

جسے خیال میں لاؤ تو دل سلگنے لگے

نہیں ہے یوں تو نہیں ہے کہ اب نہیں باقی

جہاں میں بزمِ گہِ حسن و عشق کا میلا

بنائے لطف و محبت، رواجِ مہر و وفا

یہ کس دیارِ عدم میں مقیم ہیں ہم تم

جہاں پہ مژدۂ دیدارِ حسنِ یار تو کیا

نویدِ آمدِ روزِ جزا نہیں آتی

یہ کس خمار کدے میں ندیم ہیں ہم تم

جہاں پہ شورشِ رندانِ میگسار تو کیا

شکستِ شیشۂ دل کی صدا نہیں آتی

(ناتمام)

فیض احمد فیض

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s