عشق اپنے مجرموں کو پابجولاں لے چلا

دار کی رسیوں کے گلوبند گردن میں پہنے ہوئے

گانے والے ہر اِک روز گاتے رہے

پایلیں بیڑیوں کی بجاتے ہوئے

ناچنے والے دھومیں مچاتے رہے

ہم نہ اس صف میں تھے اور نہ اُس صف میں تھے

راستے میں کھڑے اُن کو تکتے رہے

رشک کرتے رہے

اور چُپ چاپ آنسو بہاتے رہے

لوٹ کر آ کے دیکھا تو پھولوں کا رنگ

جو کبھی سُرخ تھا زرد ہی زرد ہے

اپنا پہلو ٹٹولا تو ایسا لگا

دل جہاں تھا وہاں درد ہی درد ہے

گلو میں کبھی طوق کا واہمہ

کبھی پاؤں میں رقصِ زنجیر

اور پھر ایک دن عشق انہیں کی طرح

رسن در گلو، پابجولاں ہمیں

اسی قافلے میں کشاں لے چلا

(بیروت)

فیض احمد فیض

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s