شامِ غربت

دشت میں سوختہ سامانوں پہ رات آئی ہے

غم کے سنسان بیابانوں پہ رات آئی ہے

نورِ عرفان کے دیوانوں پہ رات آئی ہے

شمعِ ایمان کے پروانوں پہ رات آئی ہے

بیت شببر پہ ظلمت کی گھٹا چھائی ہے

درد سا درد ہے تنہائی سی تنہائی ہے

ایسی تنہائی کہ پیارے نہیں دیکھے جاتے

آنکھ سے آنکھ کے تارے نہیں دیکھے جاتے

درد سے درد کے مارے نہیں دیکھے جاتے

ضعف سے چاند ستارے نہیں دیکھے جاتے

ایسا سنّاٹا کہ شمشانوں کی یاد آتی ہے

دل دھڑکنے کی بہت دور صدا جاتی ہے​

فیض احمد فیض

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s