مرے درد کو جو زباں ملے

مرا درد نغمۂ بے صدا

مری ذات ذرۂ بے نشاں

مرے درد کو جو زباں ملے

مجھے اپنا نام و نشاں ملے

مری ذات کا جو نشاں ملے

مجھے راز نظم جہاں ملے

جو مجھے یہ راز نہاں ملے

مری خامشی کو بیاں ملے

مجھے کائنات کی سروری

مجھے دولت دو جہاں ملے

فیض احمد فیض

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s