جس روز قضا آئے گی

کس طرح آئے گی جس روز قضا آئے گی

شاید اس طرح کہ جس طور کبھی اولِ شب

بے طلب پہلے پہل مرحمت بوسۂ لب

جس سے کھلنے لگیں ہر سمت طلسمات کے در

اور کہیں دور سے انجان گلابوں کی بہار

یک بیک سینۂ مہتاب کو تڑپانے لگے

شاید اس طرح کہ جس طور کبھی آخر شب

شاید اس طرح کہ جس طور تہِ نوک سناں

کوئی رگ واہمۂ درد سے چلانے لگے

اور قزاق سناں دست کا دھندلا سایہ

از کراں تابہ کراں دہر پہ منڈلانے لگے

جس طرح آئے گی جس روز قضا آئے گی

خواہ قاتل کی طرح ائے کہ محبوب صفت

دل سے بس ہو گی یہی حرف ودع کی صورت

للہ الحمد بانجام دلِ دل زدگاں

کلمۂ شکر بنام لبِ شیریں دہناں

فیض احمد فیض

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s