ٹوٹی جہاں جہاں پہ کمند

رہا نہ کچھ بھی زمانے میں جب نظر کو پسند

تری نظر سے کیا رشتہء نظر پیوند

ترے جمال سے ہر صبح پر وضو لازم

ہر ایک شب ترے در پر سجود کی پابند

نہیں رہا حرمِ دل میں اِک صنم باطل

ترے خیال کے لات و منات کی سوگند

مثال زینہء منزل بکارِ شوق آیا

ہر اِک مقام کہ ٹوٹی جہاں جہاں پہ کمند

خزاں تمام ہوئی کس حساب میں لکھیے

بہارِ گل میں جو پہنچے ہیں شاخِ گل کو گزند

دریدہ دل ہے کوئی شہر میں ہماری طرح

کوئی دریدہ دہن شیخِ شہر کے مانند

شعار کی جو مداراتِ قامتِ جاناں

کیا ہے فیض درِ دل، درِ فلک سے بلند

فیض احمد فیض

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s