لہو کا سراغ

کہیں نہیں ہے کہیں بھی نہیں لہو کا سراغ

نہ دست و ناخن قاتل نہ آستیں پہ نشاں

نہ سرخیِ لبِ خنجر نہ رنگِ نوکِ سناں

نہ خاک پر کوئی دھبا نہ بام پر کوئی داغ

کہیں نہیں ہے کہیں بھی نہیں لہو کا سراغ

نہ صرف خدمتِ شاہاں کہ خوں بہا دیتے

نہ دیں کی نذر کہ بیعانہء جزا دیتے

نہ رزم گاہ میں برسا کہ معتبر ہوتا

کسی عَلم پہ رقم ھو کے مشتہر ہوتا

پکارتا رہا بے آسرا یتیم لہو

کسی کو بہرِ سماعت نہ وقت تھا نہ دماغ

نہ مدعی، نہ شہادت، حساب پاک ہوا

یہ خون خاک نشیناں تھا رزقِ خاک ہوا

کراچی، جنوری 1965ء

فیض احمد فیض

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s