سوچنے دو

اک ذرا سوچنے دو

اس خیاباں میں

جو اس لحظہ بیاباں بھی نہیں

کون سی شاخ میں پھول آئے تھے سب سے پہلے

کون بے رنگ ہوئی رنگ و تعب سے پہلے

اور اب سے پہلے

کس گھڑی کون سے موسم میں یہاں

خون کا قحط پرا

گُل کی شہ رگ پہ کڑا

وقت پڑا

سوچنے دو

اک ذرا سوچنے دو

یہ بھرا شہر جو اب وادئ ویراں بھی نہیں

اس میں کس وقت کہاں

آگ لگی تھی پہلے

اس کے صف بستہ دریچوں میں سے کس میں اول

زہ ہوئی سرخ شعاعوں کی کماں

کس جگہ جوت جگی تھی پہلے

سوچنے دو

ہم سے اس دیس کا تم نام ونشاں پوچھتے ہو

جس کی تاریخ نہ جغرافیہ اب یاد آئے

اور یاد آئے تو محبوبِ گزشتہ کی طرح

روبرو آنے سے جی گھبرائے

ہاں مگر جیسے کوئی

ایسے محبوب یا محبوبہ کا دل رکھنے کو

آ نکلتا ہے کبھی رات بِتانے کے لئے

ہم اب اس عمر کو آ پہنچے ہیں جب ہم بھی یونہی

دل سے مل آتے ہیں بس رسم نبھانے کے لیے

دل کی کیا پوچھتے ہو

سوچنے دو

فیض احمد فیض

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s