دلدار دیکھنا

طوفاں بہ دل ہے ہر کوئی دلدار دیکھنا

گُل ہو نہ جائے مشعلِ رخسار دیکھنا

آتش بہ جاں ہے ہر کوئی سرکار دیکھنا

لو دے اٹھے نہ طرہء طرار دیکھنا

جذبِ مسافرانِ رہِ یار دیکھنا

سر دیکھنا، نہ سنگ، نہ دیوار دیکھنا

کوئے جفا میں قحطِ خریدار دیکھنا

ہم آ گئے تو گرمیِ بازار دیکھنا

اُس دلنواز شہر کے اطوار دیکھنا

بے التفات بولنا، بیزار دیکھنا

خالی ہیں گرچہ مسند و منبر، نگوں ہے خلق

رعبِ قبا و ہیبتِ دستار دیکھنا

جب تک نصیب تھا ترا دیدار دیکھنا

جس سمت دیکھنا، گل و گلزار دیکھنا

پھر ہم تمیزِ روز و مہ و سال کر سکیں

اے یادِ یار پھر اِدھر اِک بار دیکھنا

فیض احمد فیض

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s