خورشیدِ محشر کی لو

آج کے دن نہ پوچھو، مرے دوستو

دور کتنے ہیں خوشیاں منانے کے دن

کھُل کے ہنسنے کے دن، گیت گانے کے دن

پیار کرنے کے دن، دل لگانے کے دن

آج کے دن نہ پوچھو، مرے دوستو

زخم کتنے ابھی بختِ بسمل میں ہیں

دشت کتنے ابھی راہِ منزل میں ہیں

تیر کتنے ابھی دستِ قاتل میں ہیں

آج کا دن زبوں ہے، مرے دوستو

آج کے دن تو یوں ہے، مرے دوستو

جیسے درد و الم کے پرانے نشاں

سب چلے سوئے دل کارواں، کارواں

ہاتھ سینے پہ رکھو تو ہر استخواں

سے اٹھے نالہءالاماں، الاماں

آج کے دن نہ پوچھو،مرے دوستو

کب تمہارے لہو کے دریدہ عَلم

فرقِ خورشیدِ محشر پہ ہوں گے رقم

از کراں تا کراں کب تمہارے قدم

لے کے اٹھے گا وہ بحرِ خوں یم بہ یم

جس میں دھُل جائے گا آج کے دن کا غم

سارے درد و الم سارے جور و ستم

دور کتنی ہے خورشید محشر کی لو

آج کے دن نہ پوچھو، مرے دوستو

فیض احمد فیض

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s