جرسِ گُل کی صدا

اس ہوس میں کہ پکارے جرسِ گل کی صدا

دشت و صحرا میں صبا پھرتی ہے یوں آوارہ

جس طرح پھرتے ہیں ہم اہلِ جنوں آوارہ

ہم پہ وارفتگیِ ہوش کی تہمت نہ دھرو

ہم کہ رمازِ رموزِ غمِ پنہانی ہیں

اپنی گردن پہ بھی ہے رشتہ فگن خاطرِ دوست

ہم بھی شوقِ رہِ دلدار کے زندانی ہیں

جب بھی ابروئے درِ یار نے ارشاد کیا

جس بیاباں میں بھی ہم ہوں گے چلے آئیں گے

در کھُلا دیکھا تو شاید تمہیں پھر دیکھ سکیں

بند ھو گا تو صدا دے کے چلے جائیں گے

فیض احمد فیض

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s