ایک شہرِ آشوب کا آغاز

اب بزمِ سخن صحبتِ لب سوختگاں ہے

اب حلقہء مے طائفہء بے طلباں ہے

گھر رہیے تو ویرانیِ دل کھانے کو آوے

رہ چلیے تو ہر گام پہ غوغائے سگاں ہے

پیوندِ رہِ کوچہء زر چشمِ غزالاں

پابوسِ ہوس افسرِ شمشاد قداں ہے

یاں اہلِ جنوں یک بہ دگر دست و گریباں

واں جیشِ ہوس تیغ بکف درپئے جاں ہے

اب صاحبِ انصاف ہے خود طالبِ انصاف

مُہر اُس کی ہے میزان بہ دستِ دگراں ہے

ہم سہل طلب کون سے فرہاد تھے لیکن

اب شہر میں تیرے کوئی ہم سا بھی کہاں ہے

فیض احمد فیض

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s