خوشا ضمانتِ غم

دیارِ یار تری جوششِ جنوں پہ سلام

مرے وطن ترے دامانِ تار تار کی خیر

رہِ یقین افشانِ خاک و خوں پہ سلام

مرے چمن ترے زخموں کے لالہ زار کی خیر

ہر ایک خانۂ ویراں کی تیرگی پہ سلام

ہر ایک خاک بسر، خانماں خراب کی خیر

ہر ایک کشتۂ ناحق کی خامشی پہ سلام

ہر ایک دیدۂ پُرنم کی آب و تاب کی خیر

رواں رہے یہ روایت ، خوشا ضمانتِ غم

نشاطِ ختمِ غمِ کائنات سے پہلے

ہر اک کے ساتھ رہے دولتِ امانتِ غم

کوئی نجات نہ پائے نَجات سے پہلے

سکوں ملے نہ کبھی تیرے پافگاروں کو

جمالِ خونِ سرِ خار کو نظر نہ لگے

اماں ملے نہ کہیں تیرے جاں نثاروں

جلالِ فرقِ سرِ دار کو نظر نہ لگے

(لندن)

فیض احمد فیض

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s