یہ فصل امیدوں کی ہمدم

سب کاٹ دو بسمل پودوں کو

بے آب سسکتے مت چھوڑو

سب نوچ لو

بیکل پھولوں کو

شاخوں پہ بلکتے مت چھوڑو

یہ فصل امیدوں کی ہمدم

اس بار بھی غارت جائے گی

سب محنت، صبحوں شاموں کی

اب کے بھی اکارت جائے گی

کھیتی کے کونوں، کھدروں میں

پھر اپنے لہو کی کھاد بھرو

پھر مٹی سینچو اشکوں سے

پھر اگلی رت کی فکر کرو

پھر اگلی رت کی فکر کرو

جب پھر اک بار اُجڑنا ہے

اک فصل پکی تو بھر پایا

جب تک تو یہی کچھ کرنا ہے

(منٹگمری جیل)

فیض احمد فیض

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s