کوئی عاشق کسی محبوبہ سے

یاد کی راہگزر جس پہ اسی صورت سے

مدتیں بیت گئی ہیں تمہیں چلتے چلتے

ختم ہو جائے جو دو چار قدم اور چلو

موڑ پڑتا ہے جہاں دشتِ فراموشی کا

جس سے آگے نہ کوئی میں ہوں نہ کوئی تم ہو

سانس تھامے ہیں نگاہیں کہ نہ جانے کس دم

تم پلٹ آؤ، گزر جاؤ، یا مڑ کردیکھو

گرچہ واقف ہیں نگاہیں کہ یہ سب دھوکا ہے

گر کہیں‌ تم سے ہم آغوش ہوئی پھر سے نظر

پھوٹ نکلے گی وہاں اور کوئی راہگزر

پھر اسی طرح جہاں ہو گا مقابل پیہم

سایہء زلف کا اور جنببشِ بازو کا سفر

دوسری بات بھی جھوٹی ہے کہ دل جانتا ہے

یاں کوئی موڑ کوئی دشت کوئی گھات نہیں

جس کے پردے میں‌ مرا ماہِ رواں ڈوب سکے

تم سے چلتی رہے یہ راہ، یونہی اچھا ہے

تم نے مڑ کر بھی نہ دیکھا تو کوئی بات نہیں

فیض احمد فیض

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s