واسوخت

سچ ہے ہمیں کو آپ کے شکوے بجا نہ تھے

بے شک ستم جناب کے سب دوستانہ تھے

ہاں، جو جفا بھی آپ نے کی قاعدے سے کی!

ہاں، ہم ہی کاربندِ اصولِ وفا نہ تھے

آئے تو یوں کہ جیسے ہمیشہ تھے مہرباں

بھولے تو یوں کہ گویا کبھی آشنا نہ تھے

کیوں دادِ غم، ہمیں نے طلب کی، برا کیا

ہم سے جہاں میں کشتہء غم اور کیا نہ تھے

گر فکرِ زخم کی تو خطاوار ہیں کہ ہم

کیوں محوِ مدح خوبیء تیغِ ادا نہ تھے

ہر چارہ گر کو چارہ گری سے گریز تھا

ورنہ ہمیں جو دکھ تھے ، بہت لادوا نہ تھے

لب پر ہے تلخیء مئے ایام ، ورنہ فیض

ہم تلخیء کلام پہ مائل ذرا نہ تھے

فیض احمد فیض

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s