پھر آج کوئے بتاں کا ارادہ رکھتے ہیں

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 35
کسی گماں پہ توقع زیادہ رکھتے ہیں
پھر آج کوئے بتاں کا ارادہ رکھتے ہیں
بہار آئے گی جب آئے گی، یہ شرط نہیں
کہ تشنہ کام رہیں گرچہ بادہ رکھتے ہیں
تری نظر کا گلہ کیا؟ جو ہے گلہ دل کا
تو ہم سے ہے، کہ تمنا زیادہ رکھتے ہیں
نہیں شراب سے رنگیں تو غرقِ خوں ہیں کہ ہم
خیالِ وضعِ قمیص و لبادہ رکھتے ہیں
غمِ جہاں ہو، غمِ یار ہو کہ تیر ستم
جو آئے، آئے کہ ہم دل کشادہ رکھتے ہیں
جوابِ واعظِ چابک زباں میں فیض ہمیں
یہی بہت ہیں جو دو حرفِ سادہ رکھتے ہیں
نذرِ غالب
فیض احمد فیض

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s