علاجِ درد ترے درد مند کیا کرتے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 24
گرانیِ شبِ ہجراں دو چند کیا کرتے
علاجِ درد ترے درد مند کیا کرتے
وہیں لگی ہے جو نازک مقام تھے دل کے
یہ فرق دستِ عدو کے گزند کیا کرتے
جگہ جگہ پہ تھے ناصح تو کُو بکُو دلبر
اِنہیں پسند، اُنہیں ناپسند کیا کرتے
ہمیں نے روک لیا پنجہء جنوں ورنہ
ہمیں اسیر یہ کوتہ کمند کیا کرتے
جنہیں خبر تھی کہ شرطِ نواگری کیا ہے
وہ خوش نوا گلہء قید و بند کیا کرتے
گلوئے عشق کو دار و رسن پہنچ نہ سکے
تو لوٹ آئے ترے سر بلند ، کیا کرتے !
فیض احمد فیض

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s