عشق کے دم قدم کی بات کرو

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 21
عجزِ اہل ستم کی بات کرو
عشق کے دم قدم کی بات کرو
بزمِ اہل طرب کو شرماو
بزمِ اصحابِ غم کی بات کرو
بزمِ ثروت کے خوش نشینوں سے
عظمتِ چشمِ نم کی بات کرو
ہے وہی بات یوں بھی اور یوں بھی
تم ستم یا کرم کی بات کرو
خیر، ہیں اہلِ دیر جیسے ہیں
آپ اہل حرم کی بات کرو
ہجر کی شب تو کٹ ہی جائے گی
روزِ وصلِ صنم کی بات کرو
جان جائیں گے جاننے والے
فیض، فرہاد و جم کی بات کرو
فیض احمد فیض

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s