جب چاہا کر لیا ہے کنجِ قفس بہاراں

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 40
یادِ غزال چشماں، ذکرِ سمن عذاراں
جب چاہا کر لیا ہے کنجِ قفس بہاراں
آنکھوں میں درد مندی، ہونٹوں پہ عذر خواہی
جانانہ وارآئی شامِ فراقِ یاراں
ناموسِ جان و دل کی بازی لگی تھی ورنہ
آساں نہ تھی کچھ ایسی راہِ وفا شعاراں
مجرم ہو خواہ کوئی، رہتا ہے ناصحوں کا
روئے سخن ہمیشہ سوئے جگر فگاراں
ہے اب بھی وقت زاہد، ترمیمِ زہد کر لے
سوئے حرم چلا ہے انبوہِ بادہ خواراں
شاید قریب پہنچی صبحِ وصال ہمدم
موجِ صبا لیے ہے خوشبوئے خوش کناراں
ہے اپنی کشتِ ویراں، سرسبز اس یقیں سے
آئیں گے اس طرف بھی اک روز ابرو باراں
آئے گی فیض اک دن بادِ بہار لے کر
تسلیمِ مے فروشاں، پیغامِ مے گساراں
فیض احمد فیض

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s