ہم لوگ

دل کے ایواں میں لیے گل شدہ شمعوں کی قطار

نور خورشید سے سہمے ہوئے اکتائے ہوئے

حسن محبوب کے سیال تصور کی طرح

اپنی تاریکی کو بھینچے ہوئے لپٹائے ہوئے

غایت سود و زیاں، صورت آغاز و مآل

وہی بے سود تجسس، وہی بے کار سوال

مضمحل ساعت امروز کی بے رنگی سے

یاد ماضی سے غمیں ، دہشت فردا سے نڈھال

تشنہ افکار جو تسکین نہیں پاتے ہیں

سوختہ اشک جو آنکھوں میں نہیں آتے ہیں

اک کڑا درد کہ جو گیت میں ڈھلتا ہی نہیں

دل کے تاریک شگافوں سے نکلتا ہی نہیں

اور اک الجھی ہوئی موہوم سی درماں کی تلاش

دشت و زنداں کی ہوس، چاک گریباں کی تلاش

فیض احمد فیض

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s