مگر دل ہے کہ اس کی خانہ ویرانی نہیں جاتی

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 38
کئی بار اس کا دامن بھر دیا حسن دو عالم سے
مگر دل ہے کہ اس کی خانہ ویرانی نہیں جاتی
کئی بار اس کی خاطر ذرے ذرے کا جگر چیرا
مگر یہ چشم حیراں، جس کی حیرانی نہیں جاتی
نہیں جاتی متاع لعل و گوہر کی گراں یابی
متاع غیرت و ایماں کی ارزانی نہیں جاتی
مری چشم تن آساں کو بصیرت مل گئی جب سے
بہت جانی ہوئی صورت بھی پہچانی نہیں جاتی
سر خسرو سے نازکجکلاہی چھن بھی جاتا ہے
کلاہ خسروی سے بوئے سلطانی نہیں جاتی
بجز دیوانگی واں اور چارہ ہی کہو کیا ہے
جہاں عقل و خرد کی ایک بھی مانی نہیں جاتی
فیض احمد فیض

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s