قریب ان کے آنے کے دن آرہے ہیں

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 42
نصیب آزمانے کے دن آرہے ہیں
قریب ان کے آنے کے دن آرہے ہیں
جو دل سے کہا ہے، جو دل سے سنا ہے
سب ان کو سنانے کے دن آرہے ہیں
ابھی سے دل و جاں سر راہ رکھ دو
کہ لٹنے لٹانے کے دن آرہے ہیں
ٹپکنے لگی ان نگاہوں سے مستی
نگاہیں چرانے کے دن آرہے ہیں
صبا پھر ہمیں پوچھتی پھر رہی ہے
چمن کو سجانے کے دن آرہے ہیں
چلو فیض پھر سے کہیں دل لگائیں
سنا ہے ٹھکانے کے دن آرہے ہیں
فیض احمد فیض

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s