سرود

موت اپنی ، نہ عمل اپنا، نہ جینا اپنا

کھوگیا شورش گیتی میں قرینہ اپنا

ناخدا دور، ہوا تیز، قریں کم نہنگ

وقت ہے پھینک دے لہروں میں سفینہ اپنا

عرصۂ دہر کے ہنگامے تہ خواب سہی

گرم رکھ آتش پیکار سے سینہ اپنا

ساقیا رنج نہ کر جاگ اٹھے گی محفل

اور کچھ دیر اٹھا رکھتے ہیں پینا اپنا

بیش قیمت ہیں یہ غمہائے محبت مت بھول

ظلمت یاس کو مت سونپ خزینہ اپنا

فیض احمد فیض

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s