دست قدرت کو بے اثر کردے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 21
چشم میگوں ذرا ادھر کردے
دست قدرت کو بے اثر کردے
تیز ہے آج درد دل ساقی
تلخی مے کو تیز تر کردے
جوش وحشت ہے تشنہ کام ابھی
چاک دامن کو تاجگر کردے
میری قسمت سے کھیلنے والے
مجھ کو قسمت سے بے خبر کردے
لٹ رہی ہے مری متاع نیاز
کاش وہ اس طرف نظر کردے
فیض تکمیل آرزو معلوم
ہوسکے تو یونہی بسر کردے
فیض احمد فیض

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s