حسن اور موت

جو پھول سارے گلستاں میں سب سے اچھا ہو

فروغ نور ہو جس سے فضائے رنگیں میں

خزاں کے جور و ستم کو نہ جس نے دیکھا ہو

بہار نے جسے خون جگر سے پالا ہو

وہ ایک پھول سماتا ہے چشم گلچیں میں

ہزار پھولوں سے آباد باغ ہستی ہے

اجل کی آنکھ فقط ایک کو ترستی ہے

کئی دلوں کی امیدوں کا جو سہارا ہو

فضائے دہر کی آلودگی سے بالا ہو

جہاں میں آ کے ابھی جس نے کچھ نہ دیکھا ہو

نہ قحط عیش و مسرت نہ غم کی ارزانی

کنار رحمت حق میں اسے سلاتی ہے

سکوت شب میں فرشتوں کی مرثیہ خوانی

طواف کرنے کو صبح بہار آتی ہے

صبا چڑھانے کو جنت کے پھول لاتی ہے

فیض احمد فیض

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s