تہہ نجوم

تہ نجوم، کہیں چاندنی کے دامن میں

ہجوم شوق سے اک دل ہے بے قرار ابھی

خمار خواب سے لبریز احمریں آنکھیں

سفید رخ پہ پریشان عنبریں آنکھیں

چھلک رہی ہے جوانی ہر اک بن مو سے

رواں ہو برگ گل تر سے جیسے سیل شمیم

ضیا ئے مہ میں دمکتا ہے رنگ پیراہن

ادائے عجز سے آنچل اڑا رہی ہے نسیم

دراز قد کی لچک سے گداز پیدا ہے

ادائے ناز سے رنگ نیاز پیدا ہے

اداس آنکھوں میں خاموش التجائیں ہیں

دل حزیں میں کئی جاں بلب دعائیں ہیں

تہ نجوم کہیں چاندنی کے دامن میں

کسی کا حسن ہے مصروف انتظار ابھی

کہیں خیال کے آبادکردہ گلشن میں

ہے ایک گل کہ ہے ناواقف بہار ابھی

فیض احمد فیض

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s