بعد از وقت

دل کو احساس سے دو چار نہ کردینا تھا

ساز خوابیدہ کو بیدار نہ کردینا تھا

اپنے معصوم تبسم کی فراوانی کو

وسعت دید پہ گلبار نہ کردینا تھا

شوق مجبور کو بس ایک جھلک دکھلا کر

واقف لذت تکرار نہ کردینا تھا

چشم مشتاق کی خاموش تمناؤں کو

یک بیک مائل گفتار نہ کردینا تھا

جلوۂ حسن کو مستور ہی رہنے دیتے

جلوہ حسن کو مستور ہی رہنے دیتے

فیض احمد فیض

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s