اقبال

آیا ہمارے دیس میں اک خوش نوا فقیر

آیا اور اپنی دھن میں غزلخواں گزر گیا

سنسان راہیں خلق سے آباد ہو گئیں

ویران مے کدوں کا نصیبہ سنور گیا

تھیں چند ہی نگاہیں جو اس تک پہنچ سکیں

پر اس کا گیت سب کے دلوں میں اتر گیا

اب دور جاچکا ہے شاہ گدانما

اور پھر سے اپنے دیس کی راہیں اداس ہیں

چند اک کو یاد ہے کوئی اس کی ادائے خاص

دو اک نگاہیں چند عزیزوں کے پاس ہیں

پر اس کا گیت سب کے دلوں میں مقیم ہے

اور اس کی لے سے سینکڑوں لذت شناس ہیں

اس گیت کے تمام محاسن ہیں لازوال

اس کا وفور اس کا خروش اس کا سوز و ساز

یہ گیت مثل شعلہ جوالہ تند و تیز

اس کی لپک سے باد فنا کا جگر گداز

جیسے چراغ وحشت صر صر سے بے خطر

یا شمع بزم صبح کی آمد سے بے خبر

فیض احمد فیض

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s