ہر جانب ہیں۔۔۔

ہر جا نب ہیں دلوں ضمیروں میں کالے طوفانوں والے لفظ۔ ہزاروں گھنی بھنووں کے نیچے

گھات میں

اب تو میرے لبوں تک آ بھی، حرفِ زندہ

ہر جانب گلیوں کے دلدلی تالابوں میں، بےستر، ہراساں کھڑی ہیں روحیں

قدم کھبے ہیں نیلے کیچڑ میں، اور ان کی ڈوبتی نظروں میں اک بار ذرا تیری تھی ان کی زندگی

ابھی ابھی، اک پل کو

اور اب پھر کالے طوفانوں والے لفظ ان کے لیے جانے کیا کیا سندیسے لائے ہیں

ان کو زندہ رکھیو، حرفِ زندہ!

مدتوں سے بے یاد ہے تو میرے نسیانوں میں، اے حرفِ زندہ

اب تو میرے لبوں پر آ بھی

اب ۔۔۔ جب میرے دیکھتے دیکھتے کالے طوفانوں والے لفظوں کا آبی فرش اک

بچھ بچھ گیا ہے، دور افق کے پیچھے، کہیں ان پانیوں تک جن پر اک ناخدا پیغمبر کی دعاؤں

کے بجرے تیرے تھے

میرے نسیانوں میں جہندہ، حرفِ زندہ

تیرے معنوں میں موّاج ہیں وہ سب علم جو روحوں کو کھیتے ہیں اس اک گھاٹ کی سمت

جہاں امید اور خوف کے ڈانڈے مل جاتے ہیں

اب تو ساری دنیا میں سے جس اک شخص کو ڈوبنا ہے، وہ میں ہوں

اب تو ساری دنیا میں وہ شخص جو تیر کے بچ نکلے گا، میں ہوں

مجید امجد

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s