سب کچھ ریت۔۔۔

سب کچھ ریت ۔۔۔ سرکتی ریت۔۔۔

ریت کہ جس کی ابھی ابھی قائم اور ابھی ابھی مسمار تہیں۔۔۔ تقدیروں کے

پلٹاوے ہیں

جل تھل۔۔۔ اتھل پتھل سب۔۔۔ جیسے ریت کی سطحوں پر کچھ مٹتی سلوٹیں

کیسی ہے یہ بھوری اور بھسمنت اور بھربھری ریت

جس کے ذرا ذرا سے ہر ذرّے میں پہاڑوں کا دل ہے

ابھی ابھی ان ذرّوں میں اک دھڑکن تڑپی تھی

ابھی ابھی اک سلطنت ڈوبی ہے

ابھی ابھی ریتوں کی سلوٹوں کا اک کنگرہ ٹوٹا ہے

سب کچھ ریت۔۔۔ سرکتی ریت۔۔۔

مجید امجد

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s