خود ہی لڑے بھنور سے! کیوں زحمت کی؟ ہم جو بیٹھے تھے

مجید امجد ۔ غزل نمبر 186
پھر تو سب ہمدرد بہت افسوس کے ساتھ یہ کہتے تھے
خود ہی لڑے بھنور سے! کیوں زحمت کی؟ ہم جو بیٹھے تھے
دلوں کے علموں سے وہ اجالا تھا، ہر چہرہ کالا تھا
یوں تو کس نے اپنے بھید کسی کو نہیں بتائے تھے
ماتھے جب سجدوں سے اٹھے تو صفوں صفوں جو فرشتے تھے
سب اس شہر کے تھے اور ہم ان سب کے جاننے والے تھے
اہلِ حضور کی بات نہ پوچھو، کبھی کبھی ان کے دن بھی
سوزِ صفا کی اک صفراوی اکتاہٹ میں کٹتے تھے
قالینوں پر بیٹھ کے عظمت والے سوگ میں جب روئے
دیمک لگے ضمیر اس عزتِ غم پر کیا اترائے تھے
جن کی جیبھ کے کنڈل میں تھا نیشِ عقرب کا پیوند
لکھا ہے، ان بدسخنوں کی قوم پہ اژدر برسے تھے
جن کے لہو سے نکھر رہی ہیں یہ سرسبز ہمیشگیاں
ازلوں سے وہ صادق جذبوں، طیب رزقوں والے تھے
مجید امجد

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s