جس بھی روح کا۔۔۔

جس بھی روح کا گھونگھٹ سرکاؤ… نیچے اک

منفعت کا رخ اپنے اطمینانوں میں روشن ہے

ہم سمجھے تھے، گھرتے امڈتے بادلوں کے نیچے جب ٹھنڈی ہوا چلے گی

دن بدلیں گے۔۔۔

لیکن اب دیکھا ہے، گھنے گھنے سایوں کے نیچے

زندگیوں کی سلسبیلوں میں

ڈھکی ڈھکی جن نالیوں سے پانی آ آ کر گرتا ہے

سب زیرِ زمین نظاموں کی نیلی کڑیاں ہیں!

سب تملیکیں ہیں! سب تذلیلیں ہیں!

کون سہارا دے گا ان کو جن کے لیے سب کچھ اک کرب ہے

کون سہارا دے گا ان کو جن کا سہارا آسمانوں کے خلاؤں میں بکھرا ہوا

دھندلا دھندلا سا اک عکس ہے

میں ان عکسوں کا عکاس ہوں۔۔۔

مجید امجد

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s