بات کرے بالک سے۔۔۔

بات کرے بالک سے۔۔۔ اور بولے رہ چلتوں سے

اک یہ ذرا کچھ ڈھلی ہوئی شوبھا والی کوملتا

اس کے ستے ستے بال اور پیلی مانگ سے کچھ سرکا ہوا آنچل

دکھی دکھی سی دِکھنے کی کوشش کا دکھ

اس کے چہرے کو چمکائے اور اس کے دل کو اک ڈھارس سی دے

بڑے یقینوں میں مڑ مڑ کر دیکھے، جیسے کچھ رستے میں بھول آئی ہو

مڑنے میں وہ بات کرے اپنے پیچھے چلتے بالک سے، لیکن بولے مجھ سے، میری جانب

اپنی بات اور اپنی نظر کو یک جا کر کے!

دیکھنے میں شاید میں اتنا بھلا مانس نہیں لگتا

مجید امجد

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s