اے قوم

پھولوں میں سانس لے کہ برستے بموں میں جی

اب اپنی زندگی کے مقدس غموں میں جی

وہ مائیں جن کے لال لہو میں نہا گئے

صدیوں اَب ان کے آنسوؤں، اکھڑے دموں میں جی

جب تک نہ تیری فتح کی فجریں طلوع ہوں

بارود سے اٹی ہوئی ان شبنموں میں جی

ان آبناؤں سے ابھر، ان ساحلوں پہ لڑ

ان جنگلوں میں جاگ اور ان دمدموں میں جی

پیڑوں سے مورچے میں جو تجھ کو سنائی دیں

آزاد ہم صفیروں کے ان زمزموں میں جی

بندوقوں کو بیانِ غمِ دل کا اذن دے

اک آگ بن کے پوربوں اور پچھموں میں جی

مجید امجد

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s