اور یہ انساں۔۔۔

اور یہ انساں۔۔۔ جو مٹی کا اِک ذرّہ ہے۔۔۔ جو مٹی سے بھی کم تر ہے

اپنے لیے ڈھونڈے تو اُس کے سارے شرف سچی تمکینوں میں ہیں

لیکن کیا یہ تکریمیں ملتی ہیں

زر کی چمک سے؟

تہذیبوں کی چھب سے؟

سلطنتوں کی دھج سے؟

نہیں۔۔۔ نہیں تو!

پھر کیوں مٹی کے اس ذرّے کو سجدہ کیا اک اک طاقت نے؟

کیا اس کی رفعت ہی کی یہ سب تسخیریں ہیں؟

میں بتلا دوں:

کیا اس کی قوت اور کیسی اس کی تسخیریں؟

میں بتلا دوں:

قاہر جذبوں کے آگے بے بس ہونے میں مٹی کا یہ ذرّہ

اپنے آپ میں

جب مٹی سے بھی کم تر ہو جاتا ہے، سننے والا اس کی سنتا ہے

سننے والا جس کی سنے، وہ تو اپنے مٹی ہونےمیں بھی انمول ہے

مجید امجد

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s