یہ سب دن۔۔۔

یہ سب دن

تنہا، نا یکسو

یہ سب الجھاوے

کالی خوشیاں، کالے غم

اے رے دل

رہا ہے تو اب تک

کن بھگتانوں میں

اور اب بھی تو آگے ہے

ایک وہی گذران دنوں کی، جس کی رو

جذبوں اور خیالوں میں چکراتی ہے

ہم جیتے ہیں، ان روحوں کو بھلانے میں

سدا جو ہم کو یاد کریں

سدا جو ہم کو اپنے مشبک غرفوں سے دیکھیں

جیسے، پورب کی دیوار پہ، انگوروں کی بیلوں میں

بڑھتے، رکتے، ننھے ننھے، چمکیلے نقطے

کرنوں کے ریزے

جو ہر صبح

ہر جھونکے کے ساتھ

ان پتوں کی درزوں میں

اے رے دل

تیری خاطر جلتے بجھتے ہیں

کس کی خاطر یہ اک صبح؟

کس کی خاطر آج کا یہ اک دن؟

کیسا دن؟

یہاں تو ہے بس ایک وہی اندھیر دنوں کا جس کی رو

روحوں میں اور جسموں میں چکراتی ہے!

مجید امجد

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s