یہ بھی کوئی بات ہے۔۔۔

یہ بھی کوئی بات ہے کہنے کی

لیکن لو، ہم کہے ہی دیتے ہیں

دوہا، بول، کبت، کیا رکھا ہے ان میں ۔۔۔

زخم بھلا کب سلے ہیں شبدوں سے ۔۔۔

جلتی سطروں سے کب ڈھلی ہیں تقدیریں

بس، یہی، لے دے کے، کچھ عرصے کو

دھیمی دھیمی سی وہ جلن دب جاتی ہے

جو اس وقت ابھرتی ہے

جب دل میں گھن لگتا ہے

آخر ذرا سی اس تسکین کی خاطر کون

سارے جگ کا بیر سہے

کون کہے؟ کیا حاصل ہے اس بات کے کہنے سے؟

بات بھی یہ کہ زمانے میں:

زینہ بہ زینہ بندے پر تو بندے کی تلوار معلق ہے

چھوڑیں بھی اس بات کو، چلو یہی سوچیں

شاید اِک دن کوئی سچ اس سچ کو جھٹلا دے

(اپنا دل تو اگرچہ مشکل سے یہ مانے گا۔۔۔!)

مجید امجد

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s