گھور گھٹاؤں

گھور گھٹاؤں کے نیچے

پیڑوں کی لچکیلی باہیں

کونپلوں کے کنگن پہنے

جھک جھک کر

جھیل کے پانی پر سے چننے آئی ہیں

پیلے پیلے پتے اور بھورے بھورے بادل

جھیل کی جانب جھکی جھکی

رستے ہی میں جم گئیں شاخوں کی باہیں

جھیل سے کون اٹھا کر دے ان کو

پیلے پیلے پتے اور بھورے بھورے بادل

چاروں اور سے امڈی امڈی گہری چھاؤں، سہانی ہریاول

تھم گئی آ کر زنگ آلود سلاخوں والی اس کھڑکی کے پاس

جانے جھریوں والا کالا چمڑا میرے دل کا کب اس ٹھنڈک کو محسوس کرے

مجید امجد

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s