گداگر

چلتے چلتے رک کر، جھک کر، ادھر ادھر بے بس بے بس نظروں سے

دیکھنے والے

کبڑی پیٹھ اور پتھرائی ہوئی آنکھوں والے

بوڑھے بھک منگے، اس اپنی حیرانی کے فریضے میں تو واقعی تو کتنا

حیران نظر آتا ہے

جانے کس کے ارادے کی رمزیں اس تیری بے بسی کی قوت ہیں

پتھریلی روحوں کے صنم کدے میں جانے کون یہ کاسہ بدست کھڑا ہے

تجھ کو دیکھ کے میرا جی اس سے ڈرتا ہے

تیرے ڈرے ہوئے پیکر میں جس کی بےخوفی جیتی ہے

کسی دھیرج سے دھڑکتا ہو گا اس کا قلب کہ تو جس کا قالب ہے

اتنے سکون میں اس کے جتنے قصد ہیں، میں ان سے

ڈرتا ہوں

تیرے وجود کو یہ بےکل پن دے کر کس بےدردی سے وہ

دِلوں میں سچی ہمدردی کے درد جگاتا ہے ۔۔۔ اور

ہم کو ترساں دیکھ کے شاید خوش ہوتا ہے!

ابھی ابھی تو، یہیں کہیں تو میری غفلت میں تھا

اب کہتا ہوں، مجھ کو میری آگاہی میں کب یہ بھیک ملے گی

مجید امجد

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s