پہلی سے پہلے

دن تو ایک سے ہوتے ہیں سب

لہو رگوں میں جب بہتا ہو

لیکن جانے اَب کے میرے ذہن میں یہ چنگاری سی کیسی چٹکی ہے

اب کے مہینے کے آخر میں یہ جو دن آئے ہیں

کچھ یوں لگے ہیں جیسے

انھی دنوں میں میرے وجود کے ذرّے کے لیے سب سورج چمکے ہوں

سب سورج

سب گردشیں

سب تاریخیں

سارے زوال، جو تہذیبوں کے سایوں میں، انسانوں کو روٹی کے ٹکڑے کے لیے

ترساتے آئے ہیں

سارے خیال جو آنے والوں اچھے دنوں کا دھن ہیں

اور جو موت کی وادی سے ہو کر ذہنوں میں آتے ہیں

مجید امجد

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s