پھولوں کی پلٹن

آج تم ان گلیوں کے اکھڑے اکھڑے فرشوں پر چلتے ہو

بچو! آؤ تمہیں سنائیں گزرے ہوئے برسوں کی سہانی جنوریوں کی

کہانی

تب یہ فرش نئے تھے ۔۔۔

صبح کو لمبے لمبے اوورکوٹ پہن کر لوگ گلی میں ٹہلنے آتے

ان کے پراٹھوں جیسے چہرے ہماری جانب جھکتے

لیکن ہم تو باتیں کرتے رہتے اور چلتے رہتے

پھر وہ ٹہلتے ٹہلتے ہمارے پاس آ جاتے

بڑے تصنع سے ہنستے اور کہتے:

’’ننھو! سردی تمہیں نہیں لگتی کیا؟‘‘

ہم سب بھرے بھرے جزدان سنبھالے

لوحیں ہاتھوں میں لٹکائے

بنا بٹن کے گریبانوں کے پلو ادھڑے کاجوں میں اٹکائے

تیز ہواؤں کی ٹھنڈک اپنی آنکھوں میں بھر کر

چلتے چلتے، تن کے کہتے:

’’نہیں تو، کیسی سردی

ہم کو تو نہیں لگتی…!‘‘

بچو! ہم ان اینٹوں کے ہم عمرہیں جن پر تم چلتے ہو

صبح کی ٹھنڈی دھوپ میں بہتی آج تمہاری اک اک صف کی وردی

ایک نئی تقدیرکا پہناوا ہے

اجلے اجلے پھولوں کی پلٹن میں چلنے والو

تمہیں خبر ہے، اس فٹ پاتھ سے تم کو دیکھنے والے

اَب وہ لوگ ہیں

جن کا بچپن ان خوابوں میں گزرا تھا جو آج تمہاری زندگیاں ہیں

مجید امجد

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s