دل کا چھالا

پہلے آنکھ میں کڑوی سی اک لہر

اور پھر اک جرم

اور پھر یہ سب دکھ

سب دکھ، اس اک پاپ کی جنتا

سارے عذاب ضمیروں کو کجلانے والے

گہری کلنک بھری دکھتی ریکھائیں جن کے الجھاووں میں عمریں بٹ جاتی ہیں

اک ہونی کے کتنے جنموں میں اس پاپ کا لمبا پھیرا پڑتا ہے

دُنیا کو دکھ سے بھر دیتا ہے

اچھا تھا جب دل کا چھالا پھوٹا تھا، ہم اپنے قدموں میں رک جاتے

مجید امجد

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s